370

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن پشاور نے بھی میٹرک کے نتائج کا اعلان کردیا ۔ کسی بھی سرکاری سکول کا طالب علم ٹاپ ٹوینٹی میں جگہ حاصل نہ کرسکا . فرنٹیر سکاوٹس کیڈٹ کالج کے طالب علم عمر انور نے 1048نمبر لیکر پہلی پوزیشن حاصل کرلی

پشاور تعلیمی بورڈ کے تحت ہونے والے امتحانات میں ایک لاکھ 49ہزار212طلباء و طالبات نے حصہ لیاجس میں 97ہزار سے زائد طلبہ نے کامیابی حاصل کی جبکہ مجموعی طور پر نتیجہ 65.36فیصد رہا۔ نتائج کے مطابق فرنٹیر سکاوٹس کیڈٹ کالج کے طالب علم عمر انور نے 1048نمبر لیکر پہلی ،پشاور ماڈل سکول کی طالبہ جلوہ اکبر نے 1047نمبر لیکر دوسری اور فرنیٹر سائنس اکیڈمی کی طالبہ کرشمہ بصیر 1045نمبر کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی ۔آرٹس گروپ میں حافظہ عائشہ بی بی نے 1001نمبر لیکر پہلی، حفسہ رفاقت علی 990نمبرز کے ساتھ دوسری جبکہ تیسری پوزیشن پر حافظہ ہدہ حبیب اور لائبہ رحمن نے 977نمبر ز حاصل کئے۔سائنس اور آرٹس میں ابتدائی تین پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو بورڈ کی جانب سے 50ہزار،45ہزار اور40ہزار روپے کے ساتھ ساتھ توصیفی سرٹیفکیٹ اور شیلڈ بھی دیے گئے ۔ پہلے بیس پوزیشنز پر 88طلبہ و طالبات کامیاب قرار پائی۔ چیئرمین پشاور بورڈ ڈاکٹر فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت ہی کم عرصہ میں لاکھوں پرچوں کی چیکنگ ان کیلئے بہت ہی مشکل تھا لیکن وسائل نہ ہونے کے باوجود بھی پرچوں کی چیکنگ کا عمل شفاف طریقے سے کیا اور پچیس طلبہ کیلئے ایک انویجلیٹر کی خدمات حاصل کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری سکولز میں سزا و جزا ء کا عمل نہیں ہوتا جبکہ پرا ئیویٹ سیکرٹر کے تعلیمی ادارو ں میں اسا تذہ پر چیک اینڈ بیلنس ہو تا ہے جسکی وجہ سے ہر سال نجی سکولز کے طلباء پشاور بو رڈ کو ٹاپ کر تے ہیں جبکہ سرکاری سکولز کے طلباء کی تعداد ٹاپ سٹو ڈنٹس میں نہ ہو نے کے برابر ہے.
میٹرک کے سالانہ نتائج میں پشاور کے سرکاری سکولوں کا کوئی بھی طالب علم ابتدائی بیس پوزیشنوں میں اپنی جگہ نہ بنا سکے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے تعلیم کے لئے سب سے زیادہ بجٹ مختص کرنے اور صوبے میں تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات بھی کارگر ثابت نہ ہوسکے جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے بورڈ میں پہلے تین پوزیشن حاصل کرنے والے سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لئے 10لاکھ ، 5اور تین لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان بھی کیا گیا تھا مگر اس کے باوجود سرکاری سکولوں کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ پشاور بورڈ کے میٹرک امتحانات میں سرکاری سکولوں کے کسی بھی طالب علم نے نہ ہی سائنس اور نہ ہی آرٹس کی پہلے 20پوزیشن میں کوئی پوزیشن حاصل کی ہے جو کہ محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں