398

میٹرک کے امتحان میں خراب کارکردگی کے حامل 174سکولوں کے پرنسپلز کوشوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا . تسلی بخش جواب نہ دینے پر ان کے خلاف ای اینڈ ڈی رولز کے تحت سخت کاروائی عمل میں لائی جائیگی

یہ بات خیبر پختونخوا کے وزیرِ ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف خان نے پشاور پریس کلب میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتائی انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے میٹرک کے امتحان میں خراب کارکردگی کے حامل 174سکولوں کے پرنسپلز کو فوری طور پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیاہے اور تسلی بخش جواب نہ دینے پر ان کے خلاف ای اینڈ ڈی رولز کے تحت سخت کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔ وزیرِ تعلیم نے کہا گو کہ سرکاری سکولوں کے میٹرک کا رزلٹ حوصلہ آفزا نہیں تاہم تعلیمی معیار میں بہتر ی ضرور آئی ہے اور اے گریڈرز کی تعداد میں واضح اضافہ جبکہ ای گریڈرز میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور ان سکولوں کے بچے ٹاپ پوزیشن پر آئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امتحان میں زیادہ طلبہ کا پاس ہونا کوالٹی کا پیمانہ نہیں ورنہ ہم بھی امتحانات میں نرمی کر کے یہ کر سکتے تھے لیکن ہم نے قوم کے بہتر اور روشن مستقبل کیلئے امتحانی نظام میں بہتر ی لانے کیلئے سخت فیصلے کئے اور امتحانی ہالوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے، امتحانی عملے کی ڈیوٹی کا طریقہ کار اور MCQs پیپرکا پیٹرن تبدیل کیا، OMRسسٹم متعارف کرایا اور امتحانی ویجیلنس سسٹم کو فعال کر کے 40کی بجائے 25 طلبہ کیلئے ایک انویجلیٹر رکھا۔ اسی طرح کھلے عام نقل کی حوصلہ شکنی کی اور رٹہ سسٹم کے خاتمے کیلئے Conceptual لرننگ کو ترجیح دی جس کی وجہ سے میٹرک کا رزلٹ توقع کے مطابق نہیں رہا۔ عاطف خان نے کہا کہ امتحانی نظام میں مزید بہتر ی لانے کیلئے 1995 ء کے قانون میں ترمیم کیلئے قانون سازی کر رہے ہیں اور بہت جلد اسمبلی سے اس کی منظوری لی جائیگی۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اصلاحات سے معیارِ تعلیم میں واضح بہتر ی آئیگی اور یہاں کے بچے عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہونگے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی تعلیم پر خصوصی توجہ کی وجہ سے آج ملک کے بڑے بڑے سیاسی رہنما، میڈیا اور سول سوسائٹی تعلیم کے شعبے پر اپنی آراء پیش کر رہے ہیں اور حکومت کو اپنی تجاویز بھی دے رہے ہیں جو کہ انتہائی حوصلہ آفزا امر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں