406

نوشہرہ میں ائیر یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دیدی گئی. یونیورسٹی کے لئے پیرپیائی میں 400کنال اراضی مختص

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے نوشہرہ میں جی ٹی روڈ کے کنارے پیر پیائی گاؤں کی 400کنال وسیع اراضی پرایئر یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دی ہے جبکہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو مطلوبہ اراضی فوری پاک فضائیہ کے حوالے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے پاکستان ائیر فورس کی زیر نگرانی نوشہرہ میں کمرشل ائیر کرافٹ مینٹی نینس کالج اور پشاور میں پی ایف کیڈٹ کالج کے قیام کی بھی با ضابطہ منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ان کالجوں میں جلد از جلد کلاسز کے اجراء کے لئے خالی عمارات مہیا کرنے اور بعد ازاں طویل المیعاد منصوبہ بندی کے تحت مطلوبہ اراضی کا بندوبست کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں وزیراعلیٰ نے ہوا بازی اور طیاروں کی مرمت و دیکھ بھال سمیت کئی شعبوں میں پاک فضائیہ کی استعداد کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ان اہم ترین شعبوں میں خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو بھی ہنر اور مہارت کی بلندیوں پر پہنچائے گی جن کی یہاں شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ صوبائی حکومت جامع منصوبہ بندی کے تحت نوشہرہ جی ٹی روڈ پرٹیکنیکل یونیورسٹی کا قیام بھی عمل میں لا رہی ہے جبکہ کمرشل ائر کرافٹ کالج کے لئے پاک فضائیہ کو خالی عمارت کے علاوہ 15لاکھ روپے کی علامتی گرانٹ بھی مہیا کی گئی ہے۔ ہوا بازی کے شعبے میں یہ درسگاہیں پورے ملک میں اپنی نوعیت کے منفرد ادارے ثابت ہوں گی جو خیبر پختونخوا اور فاٹا کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ہوا بازی، طیارہ سازی ، ہوائی جہازوں کی دیکھ بھال، مرمت اور فضائی تحقیق و ایجادات سمیت تمام شعبوں میں عالمی معیار کی مہارت اور تربیتی سہولیات مہیا کریں گی۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں اجلاس ہوا صوبائی وزیر برائے آبنوشی شاہ فرمان ، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے ہوابازی و فنی تعلیم ائیر کموڈور محمد امین ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار خان، سیکرٹری آبپاشی، سیکرٹری انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ ان تمام اداروں کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اپنی نوعیت کے منفرد ان جامعات اور کالجوں کے قیام سے نہ صرف صوبے کے تعلیمی شعبے بلکہ معیشت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور یہاں معاشی خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا اسکی بدولت صوبے میں ہوا بازی سمیت فنی تعلیم کے تمام شعبوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے اور نوجوانوں کی مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں