390

حیات آباد پرائیویٹ اسکول سکینڈل۔۔۔ ذمہ دار کون ….. طارق وحید

مجھے سکول میں اپنے پرنسپل کے کردارپرشک تھا. لیکن طالبعلم تھاکیا کرسکتا تھا مجھے تو اپنے نمبرز اور سرٹيفيکٹ کي فکر تھي، دو دفعہ والد کو اگاہ کيا کہ اسکول کا ماحول ٹھيک نہيں،پرنسپل بھي بد کردار ہے، ليکن والدصاحب نے الٹا مجھے ڈانٹا، کہ وہ تو داڑھي والا بڑا نيک بندہ ہے سارا مسئلہ تم ميں ہے،پڑھائي سے بھاگنے کے لئے ڈرامے نہ کر۔۔
حيات آباد کے نجي اسکول ميں پڑھنے والے نويں جماعت کے طالبعلم کي اس بے ساختہ گفتگو نے جنريشن گيپ اورہمارے معاشرے کي روايتي بندشوں کے ايک ايسے پہلوکي نشاندہي کي جس پر ہماري توجہ بہت کم پڑتی ہے۔والدين سمجھتے ہيں کہ بچوں کو دباو ميں رکھ ان کو سيدھا کيا جا سکتا ہے، ان کے اسکول فيس جمع کرکے، اچھے کپڑے اورخوراک ديکر وہ اپني ذمہ داريوں سے بري الزمہ ہو جاتے ہيں، دوسري جانب کچے زہن کے بچے کئي سماجي اور نفسياتي مسائل کا شکار ہوکر بھي اس ڈر سے اپنے والدين يا بڑوں کو اگاہ نہيں کرپاتے کہ نازک مسائل پربات کرنا بد تمیزی کے زمرے میں شمارکیا جاتا ہے -ايسے ہي چھوٹے چھوٹے مسائل بڑھ کرحيات آباد نجي اسکول جیسے انسانيت سوز اسکينڈل جنم دے ديتا ہے، جس سے بچوں کا مستقل تو کيا پورے خاندان تباہ ہو جاتے ہيں۔
استاد کے لبادے ميں شيطان۔۔۔
کہاني کا اغاز کوئي پانچ چھ مہينے قبل اس وقت ہوا جب حيات آباد ميں پوليس نے ايک نو عمرطالبعلم کو چرس کی ٹکیہ رکھنے پر پکڑ ليا، ويسے ہي عام بات چيت ميں لڑکے کے منہ سے نکل گيا کہ مجھے تو ايک سگريٹ پرگرفتار کرلیا، اس کےاسکول ميں جو کچھ ہورہا ہے پوليس کچھ بھی نہیں کرتی، يہ ايک عام سي بات تھي جواکثرپوليس اورملزموں کے درميان ہوتي ہے اور پھر ایک لا ابالی نوخیزلڑکے کی باتوں کا کیا اعتبار، ليکن ايک پوليس افسرکي چھٹي حس نے کام کيا اوراس حوالے سے تفتيش شروع کردي توجس ميں سنسني خيزانکشافات سامنے آئے۔
پوليس نے نجي اسکول کي خفيہ نگراني شروع کر دي ،مشکوک سرگرميوں کي تصديق پر چھاپہ مارا گيا، ایک باريش پرنسپل عطاء اللہ کوحراست ميں ليا گيا،توپوليس اہلکار کچھ دیر کے لئے پریشان بھی ہوئے کہ شائد غلط جگہ کاروائی کی ہے لیکن اس کے قبضے سے چرس، جنسي ادويات، پستول بھي برآمد ہواتھا، ابتدائي تفتيش ميں اس کے دو موبائل فونزاور ليپ ٹاپ نے سارا بھانڈا پھوڑ ديا۔
پوليس تفتيش کے مطابق پرنسپل باہر سے جسم فروش خواتين کو اسکول لا کراستعمال کرتا ہے اور ان کي خفيہ ويڈيوز بھي بناتا ہے اورصرف يہ نہيں بلکہ کمسن طالبات کے ساتھ غير اخلاقي حرکتيں کرکے ان کي ويڈيوز بھي بناتاہے اورپھران کے والدين کو بليک ميل کرتا تھا،اس طرح کي کوئي 40 سے زائد ويڈيوزنے روحاني باپ کے لبادے ميں ايک جنسي مريض درندے کا سارا ماجرا بے نقاب کرديا۔
پولیس کواسکول میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کے لئے مختص دو کمروں سے خفیہ کیمرے، کنڈوم اور دیگرمواد بھی ملا، ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا تو خاتون جو ڈیشل مجسٹریٹ بھی شواہد دیکرحیران اورپریشان ہو گئیں ، اور ملزم کو پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
گرفتاری پر ردعمل۔۔۔۔
ایک قبیح جرم میں گرفتاري پرچاہیئے تو یہ تھا کہ ملزم کے دوست رشتہ دار اور برادری اس سے لا تعلقی کا اظہار کرتی، الٹا پولیس کودباومیں لانے کی کوشش کی گئی اورصرف یہ ہی نہیں چند افراد نے پولیس کو اطلاع دینے والے طالبعلم کے گھر پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی اورجان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں، دوسری جانب ایک اعلیٰ جو ڈیشل افسربھی تھانے پہنچ گیا اورمتعلقہ پولیس کی وردیاں اتروانے کی دھمکیاں دیں۔
ملزم کا اقبال جرم۔۔۔۔۔
عدالت میں ملزم نے اپنے تمام کرتوت کا اعتراف کیا، ساتھ ہی اللہ سے معافی مانگی اورائندہ کے لئے ایسی حرکتوں سے توبہ کرنے کا عھد کیا، ملزم کےاقبالی بیان کے مطابق وہ بٹھک گیا تھا خاص کرجب سے گاڑی لی توہوس بڑھ گیا، جسم فروش خواتین کو اسکول لاکر استعمال کرنے اورویڈیوز بنانے کا اعتراف کیا تاہم کمسن طالبات کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے سے مکر گئے، ملزم کے مطابق طالبات کوجنسي طور پرہراساں ضرور کیا لیکن ہوس کا نشانہ نہیں بنایا۔ عدالت نے اقبال جرم کے بعد ملزم کوچودہ روزہ ریمانڈ پرجیل بھیج دیا۔
والدین کیوں بچوں کی نہیں سنتے۔۔
اسد ( فرضی نام) بھی اسی نجی اسکول کے نویں کلاس میں پڑھتا تھا جس کوہوس پرست پرنسپل نے قحبہ خانے میں تبدیل کر دیا تھا، اسد کے مطابق اسے پرنسپل کی سرگرمیوں کے بارے میں پتہ تھا لیکن سمجھ نہیں اتی تھی کہ کرنا کیا ہے ایک دفعہ اپنے سخت گیر والد صاحب سے ہلکے پھلکے انداز میں شکایت کی کہ اسکول کا ماحول ٹھیک نہیں مجھے کسی اور اسکول میں داخل کروادیں ،لیکن والد صاحب نے توجہ نہیں دی دوسری دفعہ جرات کرکے یہ بھی بتا دیا کہ پرنسپل کا کردار ٹھیک نہیں، اسکول میں طالبات کوتنگ کرتاہے اور باہر سے گندی خواتین کو بھی لاتا ہے جس پر والد صاحب سیخ پا ہوگئے اور الٹا اسے ہی بے عزت کر دیا کہ تمہارادل پڑھائی میں نہیں لگتا اس لئے یہ ڈرامے کررہے ہو اور یہ بھی کہ تمہیں شرم نہیں آتی اس طرح باریش اورایماندارپرنسپل کوبدکردار کہتے ہوئے،،اس کے بعد میں چھپ ہوگیا اور سوچنے لگا کہ شائد میں ہی غلط سمجھ رہا ہوں، لیکن گرفتاری کی خبر ملی تو فوری والد کو سنائی ،وہ گہری سوچ میں پڑ گئے،شائد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا لیکن بولے کچھ نہیں،، اسد کم عمر ہونے کے باوجودحالات کی سنگینی کو سمجھ گیا تھا لیکن اگرنہیں سمجھا تو وہ باپ جو کچی عمر کے بچوں کونجی اسکولوں میں انتظامیہ کے حوالے کرکے اور ان کی فیسیں بھر کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کی ذمہ داریاں ختم ہو گئیں لیکن ایسا باالکل نہیں۔
ماہرین نفسیات کیا کہتے ہیں؟۔۔۔۔
پروفیسر ڈاکٹر سلطان محمود خیبر ٹیچنگ اسپتال پشاورمیں شعبہ سائیکیٹری کے چرمین ہیں، بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کو وہ ایک نفسیاتی بیماری قرار دیتے ہیں، ان کے مطابق یہ مسلہ صرف ہمارے مسلم معاشرے میں نہیں بلکہ ترقی یافتہ مغربی ممالک میں بھی ہے جہاں ایسے جرائم کے لئے سخت ترین سزاہیں موجود ہیں،اور کیسزفوری سامنے بھی اجاتے ہیں، لیکن چونکہ ہمارا معاشرہ روایات میں بندھا ہوا ہے اورایسے معاملات پرقتل مقاتلے ہو جاتے ہیں اس لئے ایسے مسائل موجود ہونے کے باوجود سامنے نہیں آتے جو بعد انتہائی سنگین شکل اختیار کر لیتے۔ ڈاکٹرسلطان محمود کہتے ہیں ان کے پاس درجنوں ایسے بچے، بچياں مریض نفسياتي مريض کے طورپرلائے گئے ہیں، جن کوجنسی طورپرہراساں کیا گیا،ا یسےبچے نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے کے بعد بھی والدین کوکچھ بتا پاتے اورنہ والدین ان کوجاننے کی کوشش کرتے ہیں،ڈاکٹر سلطان کہتے ہیں کہ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ متاثرہ بچے اسکول میں، قریبی رشتہ داروں یا گھریلوں ملازمین کے ہاتھوں نشانہ بنتے ہیں لیکن شعور نہ ہونے اور خوف کے باعث وہ گھر والوں کو کچھ بتانے سے کتراتے ہیں،ڈاکٹرسلطان کے مطابق جنسی زیادتی یا صرف ہراسمنٹ کا شکار بننے والے بچوں کی پرسنلٹی باالکل تباہ ہوجاتی ہے جوبڑھے ہوکرشدید نفسیاتی مسائل کا سامنا کرتے ہیں،ایسے افراد بروقت علاج نہ ہونے سے پورے خاندان بلکہ معاشرے کے لیئے بھی دردسر بن جاتے بلکہ ایسے کیسزبھی سامنے ائے ہیں کہ متاثرہ شخص بعد میں خود بھی معاشرے سے انتقام لینے کے لیئے بچوں کے ساتھ بد فعلی کے کیسزمیں ملوث ہوجاتا ہے”بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ والدین بچوں کے جذبات اور احساسات جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے،نہ ان کی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں،ایسے میں فاصلے اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ بچے نازک مسائل کا ذکر کرنے کی جرات بھی نہیں کرسکتے”ڈاکٹر سلطان اہم معاشرتی مسئلے کی وضاحت کی۔ اور تجویز دی کہ والدین کو بچوں کا دوست بن بننا پڑے گا،ان کی چوبیس گھنٹے نگرانی ممکن نہیں،ان کو سمجھائیں اور شعوردیں کہ کوئی جاننے والا چاہے وہ رشتہ دار یا استاد کیوں نہ ہوورغلانے کي کوشش کرے يا اپ کے جسم کے نازک حصوں کوچھونے کی کوشش کرے تواحتجاج کریں،والدین نہ سہي کسي قريبي دوست يا رشتہ دارکواگاہ کریں،کیونکہ احتیاط علاج سے بہترہے،پانی سر سے گزرجائے توپھرنئی نسل کا سنبھالنا مشکل ہوگا۔
تعلیمی اداروں پر نظر رکھیئے۔۔۔
استادبلا شبہ روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے اوراوائل عمری میں بچے کی کردارسازی گھرسے زیادہ درسگاہوں میں ہی ہوتی ہے،لیکن بد قسمتی سے بعض جنسی بيمارروحانی باپ کی شکل اختیارکرکے ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی گھس جاتے ہیں۔اس لیئے بچوں کے تعلیمی معاملات سے واسطہ صرف فیسں ،یونیفارم اور رزلٹ کارڈ تک محدود رکھ کراپنی ذمہ داریوں سے بری الزمہ نہیں ہواجاسکتا۔بالخصوص نجی اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کوزیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
بچوں کے ساتھ جنسي زيادتي۔۔۔ ايک رپورٹ۔۔
آئي بي سي اردو کے نوجوان لکھاري امجد قمر نے سکس ايجوکيشن پر ايک مختصر ليکن فکر انگيزتحريرميں ايک رپورٹ کا حوالہ ديا ہے جس کے مطابق پاکستان ميں 2016 کے دوران 4139 بچے اوربچياں جنسي زيادتي کا نشانہ بنيں جو 2015 کي نسبت زيادہ ہے۔ سوال پيدا ہوتا ہے کہ جنسي معاملات اورتعليم کوخفيہ رکھ کرکيا مستقبل ميں بھي بچوں کواندھيرے ميں رکھا جا سکتا ہے؟ اوروہ بھي ايک ايسے دورميں جب انٹر نيٹ سہولت کے ساتھ موبائل فون ہر دوسرے بچے کے ہاتھ ميں ہو تا ہے، اگربچے کونازک مسائل پرشعوراورآگاہي گھريا اسکول ميں نہيں ملے گي تو پھراس کوڈيجيٹل دنيا اور نفسياتي بيمار معاشرے ميں کيا خود سب کچھ جاننے کے لئے چھوڑ ديا جائے؟؟ کيا اس کو يہ ادراک ہوگا کہ کونسي چيز جنسي تعليم ہے اور کونسي ترغيب؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں