162

عوامی نیشنل پارٹی کا14جون کو پختون قومی جرگہ بلانے اور حکومت کے خلاف وائیٹ پیپرلانے کا اعلان پختونوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، تحریکوں، تنظیموں اور تمام مکاتب فکر سے لوگوں کوشرکت کی دعوت دی جائے گی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پختونوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے پختون قومی جرگہ بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14جون کو باچا خان مرکز میں پختون قومی جرگہ میں شرکت کیلئے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، تحریکوں، تنظیموں اور تمام مکاتب فکر سے لوگوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی،ملک میں بسنے والے پختونوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے اور اب مزید خاموش نہیں رہیں گے،عید کے فورا بعد مہنگائی کے طوفان اور پاکستانی میڈیا کو یرغمال بنانے کے خلاف بھرپور مظاہرے کئے جائیں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز پشاور میں پارٹی کی صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، صوبائی کابینہ کے ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے،ایمل ولی خان نے کہا کہ وزیرستان کا واقعہ پختونوں پر کئی دہائیوں سے جاری مظالم کے سلسلے کی کڑی ہے، خوں چکاں اور بے رحم ماضی پر نگاہ دوڑائی جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ کس نے وزیرستان کے روایت پرست اور تنہائی پسند پختونوں کو انسانیت سوز مظالم سے دوچار کیا، انہوں نے کہا کہ مین سٹریم میڈیا کو حقائق مسخ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ پختون نہ تو دہشت گردہیں نہ فرقہ پرست، دہشت گردی ان پر مسلط کی گئی ہے،پنجاب میں ریاست کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو ایک ایک ہزار روپے دے کر رخصت کیا جاتا ہے اس کے برعکس پختون مظاہرین کو سیدھی گولیاں ماری جاتی ہیں،انہوں نے کہا کہ میڈیا کو یرغمال کر کے وزیرستان کی صورتحال دبائی جا رہی ہے سوشل میڈیا سے جو اطلاعات آئی ہیں وہ انتہائی دردناک ہیں، ہم شہید ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک کمیٹی وزیرستان بھیجی جسے وہاں نہیں جانے دیا گیا،انہوں نے کہا کہ مظاہرین اگر غلط تھے تو انہیں گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کیا جاتا، پختون عدم تشدد کے پیروکار ہیں کبھی چیک پوسٹوں پر حملہ نہیں کر سکتے، ایمل ولی خان نے پختونوں سے اپیل کی کہ اتنے سخت حالات کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں،وزیرستان میں میڈیا کے کیمروں کو رسائی دی جائے تو حقیقت سامنے آ جائے گی،انہوں نے کہا کہ فائرنگ کا آرڈر دینے اور گولیاں مارنے والوں کو سخت سے سخت سزا دے کر مقام عبرت بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ جب سے ملک آزاد ہوا پختونوں کی نسل کشی جاری ہے، پنجابی کی نسبت پختونوں کی زندگی گزارنا مشکل ہے، یہاں پنجاب کو پاکستان تصور کیا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ9جون کو خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں مہنگائی جبکہ18جون کو میڈیا پر عائد پابندیوں کے خلاف پشاور پریس کلب کے سامنے مظاہرے کئے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ میڈیا قوم کی آواز ہے لیکن بعض قوتیں قومی بیانیہ کو دبانے کیلئے اس پر پابندیاں لگا رہی ہیں،ایمل ولی خان نے صوبے کے وسائل کو بے دردی سے لوٹنے والی حکومت کے خلاف وائٹ پیپر شائع کرنے کا علان کیا اور کہا کہ بی آر ٹی تحریک انصاف کی بدنای بن چکا ہے، میٹرو، بلین ٹری سونامی،ملم جبہ سکینڈل اور دیگر میگا کرپشن سکینڈل پر نیب خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے،انہوں نے کہا کہ نیب دفاتر کے سامنے 24جون کومظاہرے کئے جائیں گے اور اس کے باوجود بھی احتسابی ادارہ حرکت میں نہ آیا تو آئندہ کا لئحہ عمل طے کیا جائے گا،اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کا جانا طے ہے،آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت ہٹاؤ پلان طے کیا جائے گا، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانے کیلئے فوج کو پولنگ سٹیشنوں سے باہر رکھنا ہو گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں